مطالعہ پاکستان نوٹس

برائے جماعت نہم

ترمیم شدہ ایڈیشن  : 2023 – 2024

باب  1                         مختصر مشقی سوالات

قائداعظم نے یکم جولائی 1948 کو سٹیٹ بینک کا افتتاح کرتے ہوئے کیا فرمایا  ؟

جواب :   یکم جولائی 1948 کو قائد اعظم نے سٹیٹ بینک کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا  “مغرب کا معاشی نظام انسانیت کے لیے ناقابل حل مسائل پیدا کر رہا ہے اور یہ لوگوں کے درمیان انصاف قائم کرنے میں ناکام رہا ہے ہمیں دنیا کے سامنے ایک ایسا معاشی نظام پیش کرنا چاہیے جو اسلام کے صحیح تصور مساوات اور سماجی انصاف کے اصولوں پر مبنی ہو”۔

دو قومی نظریہ سے کیا مراد ہے ؟

جواب : برصغیر میں کئی اقوام اباد ہیں ۔ ان میں دو بڑی قومیں ہندو اور مسلمان ہیں۔   جو صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے باوجود آپس میں گُھل مل نہیں سکیں۔    اُن کے بنیادی اصول اور رہن سہن کے طریقے ایک دوسرے سے اس قدر مختلف ہیں کہ سینکڑوں برس کی ہمسائیگی اور ایک حکومت کے زیر سایہ رہنے کے باوجود اُ ن میں مشترکہ قومیت کا تصور پیدا نہ ہو سکا۔

نظریہ  پاکستان سے کیا مراد ہے؟

 جواب :  نظریہ پاکستان سے مراد ایک الگ خطہ زمین کا حصول ہے جس میں مسلمانانِ برصغیر قران و سنت کی روشنی میں اسلامی قدروں اور نظریات کو محفوظ کر سکیں اور اپنی زندگیاں اسلام کے روشن اصولوں کے تحت گزار سکیں۔  اسلامی نظریہ حیات نظریہ   پاکستان کی بنیاد ہے۔

عقیدہ رسالت سے کیا مراد ہے؟

جواب:   عقیدۂ رسالت سے مراد تمام رسولوں پر ایمان لانا ۔ دائرہ اسلام میں آنے کے لیے لازم ہے رسالت کو دل و جان سے تسلیم کیا جائے اور کسی اعتبار سے بھی اس میں شک و شبہ نہ کیا جائے۔   قران مجید اور اُسوۂ  رسول ﷺ کو سرچشمہ ہدایت ماننا  اور حضرت محمدﷺ  کو اللہ تعالیٰ کا آخری رسول اور آخری نبی ماننا۔  یہ ایمان رکھنا کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا،  عقیدۂ رسالت کا  لازمی جزو ہے۔  اور جو اس کا انکار کرے وہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔

ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی قائم کرنے کا مقصد کیا تھا؟

 جواب:  انگریزوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی 1600ء  میں قائم کی ۔ کمپنی ہندوستان میں ایسی معاشی پالیسیاں بناتی تھی جس کا زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ خود انگریزوں کو ہوتا تھا۔  انگریزوں نے اپنی صنعت و تجارت کے تحفظ کے لیے  نئے ٹیکس کا نظام متعارف کرایا ۔ جس کے ذریعے ہندوستان کے عوام پر بھاری ٹیکس لگائے گئے ۔ جس سے مسلمان بھی متاثر ہوئے ۔

اب یا پھر کبھی نہیں کے عنوان سے شہرۂ آفاق کتابچہ کب اور کس نے جاری کیا؟

 جواب:  28 جنوری 1933ء  کو چوہدری رحمت علی نے ” اب یا پھر کبھی نہیں” کے عنوان سے چار صفحات پر مشتمل مشہور کتابچہ  جاری کیا ۔ جو تحریک پاکستان کے لیے مضبوط دیوار ثابت ہوا۔  اور برصغیر کے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر قومیں بھی لفظ پاکستان سے آشنا ہوئیں ۔

باب نمبر 1۔ مختصر اضافی سوالات

نظریہ سے کیا مراد ہے ؟

جواب:  نظریہ انگریزی زبان کے لفظ آئیڈیالوجی سے ماخذ ہے۔

” نظریہ سے مراد ایسا ضابطہ یا پروگرام ہے۔  جس کی بنیاد فلسفہ اور تفکر پر رکھی گئی ہو ۔ اور انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں  مثلا  سیاسی،  معاشرتی،   تہذیبی اور مذہبی مسائل کے حل کےلئے کوئی لائحہ عمل بنایا گیا ہو”۔

نظریہ کے  بنیادی ماخذ تحریر کریں؟

 جواب:   نظریہ کے  بنیادی ماخذ ہیں

۔1۔ مشترکہ مذہب       2۔  مشترکہ سیاسی مقاصد          3۔ مشترکہ ثقافتی مقاصد          4۔  مشترکہ تعلیمی مقاصد            5۔ مشترکہ معاشی مقاصد

نظریہ کی تعریف کریں ؟

جواب:  نظریہ انگریزی زبان کے لفظ آئیڈیالوجی سے ماخذ ہے۔  اصطلاحی معنوں میں نظریہ کی تعریف کچھ اس طرح کی جاتی ہے۔

کسی خاص مقصد کے لیے بنایا گیا فکری خاکہ نظریہ کہلاتا ہے ۔        یا 

 کسی خاص مقصد کے لیے کسی قوم کی اجتماعی سوچ کا ایک بات پر متفق ہو جانا نظریہ کہلاتا ہے۔

نظریہ پاکستان کی تعریف کریں ؟

جواب:  تحریک پاکستان اور تعمیر پاکستان کے مجموعی تصور کو نظریہ پاکستان کہتے ہیں۔

نظریہ کی اہمیت بیان کریں ؟

نظریہ لوگوں کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے

نظریہ انسان کے ایک دوسرے کے ساتھ قومی حقوق و فرائض کا تعین کرتا ہے

 اقوام اسی وجہ سے زندہ نظر آتی ہیں

 نظریہ کسی بھی  قوم کو متحد رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے

نظریہ مقاصد کے حصول کے لیے ہر قسم کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی طاقت بخشتا ہے

نظریہ انقلاب کو جنم دیتا ہے اور اس کی وجہ س ے نئی راہیں نکلتی ہیں

پنڈت دیا نند سرسوتی کے متعلق آپ کیا جانتے ہیں؟ یا  شدھی پروگرام کس نے شروع کیا اور اس کا  مقصد کیا تھا ؟

 جواب : پنڈت دیا نند سرسوتی ہندو تحریک آریا  سماج  کا  بانی  تھا ۔ اس نے شدھی کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا جس کا مقصد غیر ہندوؤں کو زبردستی ہندو یعنی   شدھی( ہندو ذہن کے مطابق پاک صاف)  بنانا تھا۔

عقائد سے کیا مراد ہے ؟    یا     عقائد کے مجموعے کو کیا کہتے ہیں؟      یا   ایمان کسے کہتے ہیں؟

 جواب :  عقائد  میں توحید،  رسالت،  آخرت ،  ملائکہ اور الہامی کتابوں پر ایمان لانا ہے۔ عقائد کے مجموعے ( توحید،  رسالت،  آخرت ، ملائکہ اور الہامی کتابوں پر ایمان لانا)  کو ایمان کہتے ہیں۔

ارکان اسلام تحریر کیجئے ؟

اسلام کے کل پانچ ارکان ہیں ۔    

پہلا رکن:   توحید  و رسالت 

دوسرا رکن:  نماز

تیسرا رکن:    زکوۃ

چوتھا رکن:   روزہ

پانچواں رکن:  حج

علامہ محمد اقبال نے اپنی شاعری میں مساوات کے حوالے سے کیا ارشاد فرما؟

 جواب:  علامہ محمد اقبال نے مساوات کے حوالے سے ارشاد فرمایا ۔

                     ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز                نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز ؎

اخوت کس بات کا درس دیتی ہے ؟

 جواب:  اخوت اس بات کا درس دیتی ہے کہ آپس میں برادرانہ تعلقات قائم ہونے چاہیں  تاکہ کسی کے حقوق چھینے نہ جا سکیں ۔ اور نہ ہی کوئی کمزور پر ظلم کرے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے کہ : “ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ۔ اور اس کے ساتھ دھوکا نہیں کرتا ، اور اس کے ساتھ خیانت نہ کرے،  اور نہ اس سے جھوٹ بولے” ۔  سنن ترمذی  (حدیث۔ 1927)

سلطنت دہلی پر حکومت کرنے والے خاندانوں کے نام لکھیں ؟

جواب:  سلطنت دہلی پر حکومت کرنے والے خاندانوں کے نام درج  ذیل ہیں۔

 خاندان غلاماں   ،        خلجی خاند     ،       خاندان تغل     ،       سادات خاندان     ،   لودھی خاندان

مغلیہ سلطنت کے چار مشہور حکمرانوں کے نام لکھیں؟
اورنگزیب عالمگیر اور بہادر شاہ ظفر مغلیہ سلطنت کے مشہور حکمران تھے شاہ جہاںجہانگیراکبرہمایوںظہیر الدین بابر
علامہ محمد اقبال نے الگ ریاست کا تصور کب اور کہاں پیش کیا؟

 جواب:  علامہ محمد اقبال نے مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کا تصور 1930ء  میں الٰہ آباد میں پیش کیا۔  آپ نے خطبہ الٰہ آباد میں فرمایا :

مجھے ایسا نظر آتا ہے ،کہ اور نہیں تو شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو بالآخر ایک اسلامی ریاست قائم کرنا پڑے گی۔  اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں اسلام بحیثیت تمدنی قوت زندہ رہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کریں ۔ میں صرف ہندوستان میں اسلام کی فلاح و بہبود کے خیال سے ایک منظم ریاست کے قیام کا مطالبہ کر رہا ہوں”

Leave a Comment

error: Not Allowed For Copy Paste !! Please Whatsapp 03417341639 Thank you